Book Name:Wasail e Bakhshish

اور بقیعِ پاک میں   آخِر میں   مَدفَن پاؤ تم

کرنا تم عطارؔ کے حق میں   دعائے مغفِرت

اِس جہاں   میں   عافِیت ہو اُس جہاں   میں   عافِیت

 

جھوٹ کی تعریف

خلافِ واقع بات کرناخواہ جان بوجھ کرہویاغَلَطی سے۔(فتح الباری، ۱/ ۱۸۲، تحت الحدیث:۱۰۷)

 

حَجَّن کیلئے دُعاؤں   اور نصیحتوں   کا گُلدستہ ([1])

آمِنہ عطاریہ حج کو چلے اُمّید ہے

گُنبدِ خَضرا کی دید اس کی بِلا شک عید ہے

مرحبا تم کو مبارَک ہو مدینے کاسفر

فَضلِ رب سے تم پہ نازِل رَحمتیں   ہوں   ہر ڈَگر     ([2])

یاخُدا! آسان ہو اِس کیلئے حج کا سفر

ذَوق بڑھتا ہی رہے اِس کا خدائے بحروبر

رونے والی آنکھ دے اور چاک سینہ کر عطا

یارب! اس کو الفتِ شاہِ مدینہ کر عطا

ذرّے  ذرّے  کا  ادب  اللّٰہ  اِس  کو  ہو  نصیب

از طفیلِ سیِّدی احمدرضا ربِّ مُجیب!

امتِحاں   درپیش ہو راہِ مدینہ میں   اگر

صَبر کر تُو صَبر کر ہاں   صَبر کر بس صَبر کر

 

کوئی دُھتکارے یا جھاڑے بلکہ مارے صَبر کر

 مت جھگڑ ، مت بُڑبُڑا ، پا اَجْر رب سے صبر کر

راہِ جاناں   کا ہراِک کانٹا بھی گویا پھول ہے

جوکوئی شِکوہ کرے اُس کی یقینا بُھول ہے

تم زَباں   کا آنکھ کا ’’قُفلِ مدینہ‘‘ لو لگا

ورنہ بڑھ سکتا ہے عِصیاں   کا وہاں   بھی سِلسلہ

 



[1]     واضح رہے کہ سابقہ صفحات میں   یہ کلام کچھ تغیّر کے ساتھ مذکّرکے لیے کہا گیا ہے اُمّید ہے کہ ضروری تفریق کے ساتھ دونوں   کلام علیٰحدہ علیٰحدہ ہونے میں   قارئین کو سہولت رہے گی۔                       

[2]     راستہ   ۔



Total Pages: 406

Go To