Book Name:Wasail e Bakhshish

امتِحاں   درپیش ہو راہِ مدینہ میں   اگر

صَبر کر تُو صَبر کر ہاں   صَبر کر بس صَبر کر

کوئی دُھتکارے یا جھاڑے بلکہ مارے صَبر کر

 مت جھگڑ ، مت بُڑبُڑا ، پا اَجْر رب سے صبر کر

راہِ جاناں   کا ہراِک کانٹا بھی گویاپھول ہے

جوکوئی شِکوہ کرے اُس کی یقینا بُھول ہے

تم زَباں   کا آنکھ کا ’’قُفلِ مدینہ‘‘ لو لگا

ورنہ بڑھ سکتا ہے عِصیاں   کا وہاں   بھی سِلسلہ

گفتگو صادِر نہ کچھ بے کار ہو اِحرام میں 

لب پہ بس لبّیک کی تکرار ہو اِحرام میں

 

جب کرے تُو خانۂ کعبہ کا رو رو کر طواف

یہ دُعا کرنا خُدا میرے گُنہ کردے مُعاف

حاضِری ہو جب مدینے میں   تمھاری زائرو!

عشقِ شہ میں   خوب کرنا آہ و زاری زائرو!

اے مدینے کے مسافِر در پہ لے کے میرا نام

دَست بَستہ عرض کرنا ان سے رو رو کر سلام

روکے کرنا میرے ایماں   کی حفاظت کی دُعا

 دے شہادت کاشَرَف مجھ کو مدینے میں   خُدا

ہومدینے کا سفر تم کو مُیسَّر بار بار

اور بقیعِ پاک میں   مدفن بنے انجام کار

کرنا تم عطارؔ کے حق میں   دُعائے مغفِرت

اِس جہاں   میں   عافِیت ہو اُس جہاں   میں   عافِیت

 

 



Total Pages: 406

Go To