Book Name:Wasail e Bakhshish

مَدنی چَینل کی مُہِم ہے نفس وشیطاں   کے خلاف

جو بھی دیکھے گا کریگا  اِنْ شَآءَ اللہ  اِعتِراف

نفسِ اَمَّارہ پہ ضَرب ایسی لگے گی زوردار

شرمِ عصیاں   کے سبب ہوگا گنہگار اَشکبار

راہِ سنّت پر چلا کر سب کو جنّت کی طرف

لے چلے بس اِک یہی ہے مَدنی چَینل کا ہَدَف

 

اِس میں   موسیقی نہ تم ہرگز سنو گے سامِعیں 

یہ گنہ کا کام ہے اس کی اجازت ہے نہیں   

چھوڑ دو فلمیں   ڈرامے دیکھنا تم چھوڑ دو

توڑ دو ابلیس سے سب رشتہ ناتا توڑ دو

اس میں  ہے فیضانِ قراٰں  اِس میں  فیضانِ حدیث

جل مرے اور خاک ڈالے سر پہ شیطانِ خبیث

اے گناہوں   کے مریضو!چاہتے ہو گر شِفا

آن کرتے ہی رہو تم مَدنی چَینل کو سدا

اِس میں   عصیاں   سے حفاظت کا بہت سامان ہے

اِنْ شَآءَ اللہ خُلد میں   بھی داخِلہ آسان ہے

مَدنی چَینل تم کو گھر بیٹھے سکھائے گا نَماز

اور نَمازی دونوں   عالم میں   رہے گا سرفراز

مَدنی چَینل میں   نبی کی سنتوں   کی دھوم ہے

اور شیطانِ لعیں   رَنْجُور ہے مغموم ہے

مَدنی چَینل حُبِّ احمد میں   رُلاتا ہے تمہیں 

اور نشہ عشقِ محمد کا چڑھاتا ہے تمہیں 

 

خوب تڑپاتا ہے یہ خوفِ خدائے پاک میں 

اور ملاتا ہے تکبُّر کا نشہ بھی خاک میں 

 مَدنی چَینل نارِ دوزخ سے اماں   دلوائے گا

 



Total Pages: 406

Go To