Book Name:Wasail e Bakhshish

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

مجھے ماہِ رَمضاں   کا غم دے الٰہی

مِٹا حُبِّ دنیا کی دل سے سیاہی

مزہ فانی سَنسار میں   کیا رکھا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

جو  تھے   مُعتَکِف    ’’ مَدنی مرکز ‘‘  کے  اندر

بِچارے تھے عطّارؔ مغموم و مُضطَر

دمِ الوَداع ان کا دل جل رہا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

 

مَدنی سہرا

  (مبلِّغ دعوتِ اسلامی مولابخش عطاری سلمہ الباری کی شادی کے  پُرمَسرَّت موقع پر انہی کی فرمائش پر ۱۲  اشعار پر مشتمل دعاؤں   بھرا سہرا لکھا گیا تھا اس میں   حسبِ ضرورت ترمیم کی گئی ہے)

آج مولیٰ ؔبخش فضلِ رب سے ہے دولھا بنا

خوشنما پھولوں   کا اس کے سر پہ ہے سہرا سجا

اس کی شادی خانہ آبادی ہو ربِّ مصطَفٰے

از طفیلِ غوث و خواجہ ازپئے احمدرضا

ان کی زَوجہ یاخدا کرتی رہے پردہ سدا

از طفیلِ حضرتِ عثماں   غنی باحیا

تُو سدا رکھنا سلامت ان کا جوڑا کردگار

ان کو جھگڑوں   سے بچانا از طفیلِ چار یار

ان کو خو شیاں   دو جہا ں   میں   تُو عطا کر کبریا

کچھ نہ چھائے ان پہ غم کی رنج کی کالی گھٹا

 

تو نحوست سے انہیں   فیشن کی اے مولیٰ بچا

سنتوں   پر یہ عمل کرتے رہیں   یارب سَدا

 



Total Pages: 406

Go To