Book Name:Wasail e Bakhshish

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

ترانے خوشی کے فَضا گُنگُناتی

ہَوا بھی مَسرَّت کے نغمے سناتی

جدھر دیکھئے مرحبا مرحبا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

فَضائیں   بھی کیا نور برسا رہی تھیں 

ہوائیں   مَسرَّت سے اِٹھلا رہی تھیں 

سماں   ہر طرف کیف و مَستی بھرا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

 

شب و روز رَحمت کی برسات ہوتی

عطاؤں   کی جھولی میں   خیرات ہوتی

مسلماں   کا دامن کرم سے بھرا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

جو اُلفت کے پیمانے تقسیم ہوتے

تو بخشش کے پروانے تَرقِیم([1])ہوتے

خُوشا! بحرِ رحمت کو جوش آگیا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

مساجِد میں   ہر سُو بہار آگئی تھی

خدا کے کرم کی گھٹا چھا گئی تھی

جسے دیکھو سجدے میں   آکر گرا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

 



[1]     لکھے جاتے،تحریر ۔



Total Pages: 406

Go To