Book Name:Wasail e Bakhshish

ہے دعائے بسمِلِ نیم جاں  ، کہ مِری خطاؤں   کو بھول جا

ہے مجھے تو تیرا ہی آسرا، تُو غَفور ہے تو رحیم ہے

جواب: بُھولنا‘‘ کے اصل معنٰی ’’ یاد نہ رہنا‘‘ ہے۔تو اگر قائل کی یہی مراد ہے تب تو کفر ہے اور کہنے والے نے لفظ’’ بھولنا‘‘ کو ’’چھوڑنا‘‘ کے معنیٰ میں   استعمال کیا تو کفر نہیں  ۔

(کفریہ کلمات کے بارے میں   سوال جواب ص۲۴۱ مکتبۃ المدینہ )

 

متفرق کلام

مَسرَّت سے سینہ مدینہ بنا تھا مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

(یہ کلام ۵  شوال المکرم ۱۴۳۱ھ  کو کمپوز کیا گیا)

مَسرَّت سے سینہ مدینہ بنا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

پَرے رَنج و غم کا اندھیرا ہوا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

خبر جب کہ رَمضاں   کی آمد کی آئی

تو مُرجھائے دل کی کلی مسکرائی

کیا ابرِ کرم نور برسا رہا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

نظر چاند رَمضاں   کا جس وقت آیا

ہُوا رَحمتوں   کا زمانے پہ سایہ

اُفُق پر بھی ابرِ کرم چھا گیا تھا

مزہ خوب رَمضان میں   آرہا تھا

 

کھلے بابِ جنَّت ، جہنَّم کو تالے

پڑے، ہر طرف تھے اُجالے اُجالے

وہ مَردُود شیطان قیدی بنا تھا

 



Total Pages: 406

Go To