Book Name:Wasail e Bakhshish

وَحشت

ہیبت۔گھبراہٹ۔خوف

وَرَع

پرہیزگاری

وِصال

ملنا۔ملاپ

وَصْف

خوبی ۔تعریف

وَصْل

ملاقات۔مِلاپ

وَعید

دھمکی

وِلا

محبت

 

 

ھ

الفاظ

معانی

ہِجْر

جدائی

ہَژْدہ ہزارعالم

اٹھارہ ہزار طرح کی مخلوق

ھَمدم

رفیق۔یار۔دوست

ہم سائگی

پڑوس

ہم شَبِیہ

ہم شکل

ہَوَس

حِرص۔لالچ

ہُوک اُٹھنا

درد ہونا

ی، ے

الفاظ

معانی

یاوَر

حِمایتی۔مددگار

یا وَہ گوئی

فضول باتیں 

یَلْغَار

حملہ

 

اِحتِیاطی تجدیدِ ایمان کب کب کریں؟

مَدَنی مشورہ ہے روزا نہ کم از کم ایک بار مَثَلاًسونے سے قَبل(یا جب چاہیں)اِحتیاطی توبہ و تجدیدِ ایمان کرلیجئے اور اگر بَآسانی گواہ دستیاب ہوں تو میاں بیوی توبہ کر کے گھر کے اندر ہی کبھی کبھی اِحتِیاطاًتجدیدِ نکاح کی ترکیب بھی کرلیا کریں۔ماں، باپ ، بہن بھائی اور اَولاد وغیرہ عاقِل وبالِغ مسلمان مرد و عورت نِکاح کے گواہ بن سکتے ہیں ۔ احتیاطی تجدیدِ نکاح بالکل مفت ہے اس کے لئے مَہر کی بھی ضَرورت نہیں۔

حمد و نعت اور منقبت کسے کہتے ہیں  ؟

    سُوال: حمد و نعت اور منقبت کے معنٰی بتا دیجئے۔

    جواب: تینوں   کے لفظی معنٰی قریب قریب ایک ہی ہیں   یعنی تعریف و توصیف۔ مگر مجازی معنٰی جُدا جُدا ہیں  ۔ لہٰذا ’’حمد‘‘ کا لفظ خدا کی تعریف کیلئے بولا جاتا ہے۔ سرورِ کائنات صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعریف کو نعت اور صحابۂ کرام و اولیائے عُظام عَلَیْھِمُ الرِّضوان کی خوبیوں   کے بیان کو منقبت کہتے ہیں  ۔ آج کل عام شعرا ’’نعت‘‘ کم ہی لکھتے ہیں   ۔عُمُوماً ان کے کلام ہِجرو فِراق ، مدینۂ منوّرہ کی حاضِری کی تڑپ یا ’’استِغاثہ‘‘ یعنی فریاد پر مشتمل ہوتے ہیں   ۔ بارگاہِ رسالت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں   فریاد کرنا اور امداد طلب کرنا بے شک جائز ہے۔ مُتَذَکَّرہ تمام کلام عرفِ عام میں   نعت ہی کہلاتے ہیں   اور اس میں   حرج بھی نہیں  ۔ نعت کے مَعنوی اعتبار سے نعتیہ اشعار لکھنا بَہُت دشوار ہوتا ہے۔

 

حمد ومناجات

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

 



Total Pages: 406

Go To