Book Name:Wasail e Bakhshish

تھالیوں   کو پیالوں   کو بھائی! مِرچ کو اور مسالوں   کو بھائی!

چائے کی کیتلی کو اٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

ٹھنڈے پنکھوں   کو اور ہیٹروں   کو بلکہ تاروں   کو اور میٹروں   کو

بتّیوں   کو وہاں   کی جلاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

جس قدر بھی ہیں   پانی کے نلکے، پھل توپھل بلکہ بیج اور چھلکے

ہاتھ ان کی طرف بھی بڑھاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

تُو مکانوں   کو بھی کھڑکیوں   کو اور دیوار و در سیڑھیوں   کو

ہاں   عقیدت سے دل میں   بٹھاکر، تُو سلام اُن سے  رو رو کے کہنا

 

رسّیوں  ، قینچیوں  اورچھریوں  ، چادروں  ، سوئی دھاگوں  کودریوں 

سب کو سینے سے اپنے لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

کاش ہوتامیں   سگ سیِّدوں   کا، بن کے دربان پہرا بھی دیتا

رب نے بھیجا ہے اِنساں   بناکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

مسجِدِ پاک کے مُصحَفوں   کو، خوبصورت وہاں   کی صَفوں   کو

خاک آنکھوں  میں  اپنی لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

جب مدینے سے تُو ہوگا رخصت، غم سے ہو گی عجب تیری حالت

اپنی پلکوں   پہ موتی سجاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

عرض کرنا کہ ہے عرض اتنی ، حاضِری ہو مدینے ہماری

سب کی جانب سے یہ التجاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

عرض کرنا یہ بے چارے بے بس، کہتے تھے سب یہ رو رو کے بیکس

ہم کو قدموں   میں   مدفن عطاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

تُو غلاموں   پہ کہنا کرم کر، یانبی دور رنج و الم کر

ان کو اپنی مَحَبَّت  عطا  کر،  تُو  سلام  اُن سے رو  رو  کے  کہنا

کہنا عطّارؔ اے شاہِ عالی! ہے فَقَط تجھ سے تیرا سُوالی

تو سُوال اِس کا پورا شہا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

 

 



Total Pages: 406

Go To