Book Name:Wasail e Bakhshish

اُن کا دیکھے جو نقشِ کفِ پا، خوب آنسو وہاں   پر بہانا

اورپلکوں   سے جھاڑو لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

بے بسوں  ، غم کے مارو ں   کو بھائی! بے کسوں  ، دلفِگاروں   کوبھائی!

خود بھی روکر، انہیں   بھی رُلاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

 

اشکبار آنکھ والوں   کو بھائی! اُن کی آہوں   کو نالوں   کو بھائی!

تُو مزیداُن کے غم میں   رلاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

تُو مدینے کی ہریالیوں   کو، اور پھلوں   سے لدی ڈالیوں   کو

میٹھی میٹھی کھجوریں   منگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

وہ مدینے کے پیارے کبوتر، جب نظر آئیں   تجھ کو بِرادر

ان کو تھوڑے سے دانے کھلاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

تُو دَرَختوں   کو اور جھاڑیو ں   کو، اُن کی گلیوں   کی سب گاڑیوں   کو

ہاتھ اپنا ادب سے لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

بوتلوں   بلکہ تو ڈھکَّنوں   کو، دال، گندُم کے دانوں  ، چنوں   کو

چوم کر آنکھ سے بھی لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

بینگنوں  ، بِھنڈیوں  ، توریوں  کو، گوبیوں  ، گاجروں  ، مُولیوں  کو

آنکھ سے لَوکیوں   کو لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

کہنا سیبو ں   کو اور آڑوؤں   کو، اور کیلوں   کو زَرد آلوؤں   کو

اور تربوز سر پر اٹھا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

 

توقَنادیل کو قُمقُموں   کو، تُو سُوِچ، تار کو، کولروں   کو

ٹھنڈا پانی کسی کو پلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

چیونٹیوں  ، کھونٹیوں  ، ٹُونٹیوں  کو ہر طرح کی جڑی بوٹیوں   کو

بار بار ان پہ نظریں   جماکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

چاولوں  ، روٹیوں  بوٹیوں  کو، مرغ، انڈوں  کو اور مچھلیوں   کو

سبزیوں  کو وہاں   کی پکاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

 



Total Pages: 406

Go To