Book Name:Wasail e Bakhshish

ہاتھ نرمی سے ان پہ پھرا کر، تُو سلام اُن سے رو رو  کے کہنا

سن مدینے میں  بادَل گھریں  جب، ان سے بیتاب قطرے گریں  جب

بارشِ نور میں   تُو نہا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

اشکِ اُلفت کی مہکی لڑی سے، رحمتوں  کی برستی جھڑی سے

اپنا سینہ مدینہ بنا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

زائرِطیبہ! میرا فَسانہ، خوب رو رو کے اُن کو سنانا

سوزِ الفت سے دل کو جلا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

سنگریزوں   کو اور پتَّھروں   کو، اونٹ گھوڑوں  ، خَروں  ، خَچَّروں   کو

اور پرندوں   پہ نظریں   جما کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

رو رہا ہے ہر اِک غم کا مارا، عَرض کرتا ہے تجھ سے بچارا

میری بھی حاضِری کی دعا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ

=اس طرح کے سلاموں   سے یہی مقصود ہوتا ہے اس میں   کوئی حرج نہیں  جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے اس شعر میں   ولادتِ مبارَک کی مقدّس گھڑی کو سلام پیش فرمارہے ہیں  :   ؎

             جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند     اس دِل افروز ساعت پہ لاکھوں   سلام   (حدائق بخشش ص۳۰۵)

(از: المدینۃ العلمیہ) 

 

باغِ طیبہ کی مہکی فَضا کو، ٹھنڈی ٹھنڈی وہاں  کی ہوا کو

ہاتھ لہراکے سر کوجھکاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

چوم لینا مدینے کی گلیاں  ، پتیّاں   اور پھولوں   کی کلیاں   

سب کو آنکھوں   سے اپنی لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

جب مدینے کے صَحرا سے گزرے، بھولنا مت، ذرا یاد کرکے

خاکِ طیبہ ذرا سی اُٹھاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

تُو مدینے کے کُہسار کو بھی، خَس کو خاشاک کو خار کو بھی

ذرّے ذرّے پہ آنکھیں   بچھاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

اُن کا دیدار ہو گر مُیسَّر، ہوش بھی تیرا قائم رہے گر

جوڑ کر ہاتھ، سَر کو جھکاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

وہ مدینے کے مَدنی نظارے، دلکَش و دلکُشا پیارے پیارے

ان نظاروں  پہ قربان جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

 



Total Pages: 406

Go To