Book Name:Wasail e Bakhshish

جب پہنچ جائے تیرا سفینہ، جب نظرآئے میٹھا مدینہ

باادب اپنے سر کو جھکا کر، تُوسلام اُن سے رو رو کے کہنا

جب کہ آئے نظر پیارامکہ، چوم لینا نظر سے تُو کعبہ

ہو سکے گر تو ہر جا پہ جاکر، تُو سلا م اُن سے رو رو کے کہنا

تُو عرب کی حسیں   وادیوں   کو، ریگزاروں   کو آبادیوں   کو

میری جانب سے پلکیں  بچھاکر، تُو سلا م  اُن سے رو رو کے کہنا

جب کہ پیشِ نظرجالیاں  ہوں  ، تیری آنکھوں  سے آنسو رواں  ہوں 

میرے غم کی کہانی سنا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

آمِنہ کے دُلارے کو پہلے، بعد شیخین کو بھی تُو کہہ لے

پھر بقیعِ مبارَک پہ جا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

 

مانگنا مت تُو دنیا کی دولت، مانگنا ان سے بس ان کی الفت

خوب دیوانے دل کو لگا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

میرے آقاکے محراب و منبر ان کی مسجِد کے دیوار اور در

قلب کی آنکھ اُن پر جما کر تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

پیاری پیاری وہ جنّت کی کیاری، چوم لینا نگاہوں   سے ساری

بحرِ رَحمت میں   غوطہ لگاکر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

سبز گنبد کے دلکش نظارے، رُوح پروَر وہاں   کے مَنارے

ان کے جلووں   میں   خود کوگُماکر، تُو سلا م اُن سے رو رو کے کہنا

وہ شہیدوں   کے سردار حمزہ، اور جتنے وہاں   ہیں   صحابہ

تُو سبھی کے مزاروں   پہ جاکر، تُو سلام اُن سے رو روکے کہنا

تُو نمازوں   کا پابند بن جا اور سرکار کی سنّتوں   کا

انقِلاب اپنے اندر بپا کر، تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا

کُوئے محبوب کی بکریوں   کو، مُرغیوں  ، ککڑیوں  ، لکڑیوں   کو ([1])

بلکہ تنکے وہاں   کے اٹھا کر، تُو سلام اُن سے  رو رو کے کہنا

 

بِلّیاں   جب مدینے کی دیکھے، خوب ادب سے انہیں   پیار کرکے

 



[1]     اس طرح کے تمام اشعار جن میں   مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً سے نسبت رکھنے والی چیزوں   کو سلام کیا ہے یہ وہ سلام نہیں   جو بوقتِ ملاقات مسنون اور اس کا جواب واجب ہوتا ہے جسے ’’سلامِ تَحَیَّت‘‘ کہتے ہیں   بلکہ عاشقِ صادق محبوب اور محبوب سے نسبت رکھنے والی اشیاء کو ــ’’سلامِ محبت‘‘ پیش کرتا ہے =



Total Pages: 406

Go To