Book Name:Wasail e Bakhshish

قابِلِ صَد رشک ہے قسمت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

بندۂ بدکار ہوں  ! افسوس میں   بیکار ہوں   

کچھ نہ مجھ سے ہو سکی خدمت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

سب مریدوں   کے لئے سارے محبّوں   کے لئے

سانِحہ جاں   سَوز تھا رِحلت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

 

آخِری دیدار کے وقت آنکھ میری رو پڑی

دیکھ کر زیرِ کفن صورت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

یاالٰہی! واسِطہ تجھ کو رسولِ پاک کا

نور سے معمور کر تُربَت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

واسِطہ غوث و رضاکا اے خدائے مصطَفٰے

خواب میں   مجھ کو دکھا صورت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

اُن کے فیضِ خاص سے عطارؔبھی ہے فیضیاب([1])

اِس پہ کچھ زائد ہی تھی شَفقت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

تُو تَو ہے عطارؔ بداطوار، وہ عالی وقار

کیا لکھے گا مَنقَبت حضرت وقارُ الدین کی

 

ملی تقدیر سے مجھ کو صَحابہ کی ثناخوانی

ملی تقدیر سے مجھ کو صَحابہ کی ثناخوانی

ملا ہے فیضِ عثمانی مِلا ہے فیضِ عثمانی

رکھا مَحصور ان کو بند ان پر کر دیا پانی

 



[1]     الحمد لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  وقارُ الْمِلَّت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے مجھے اپنی خلافت سے نوازا۔بطور ِتحدیثِ نعمت مذکورہ شعر میں   اس طرف اشارہ کیا ہے۔سگِ مدینہعُفِیَ عَنہُ

 



Total Pages: 406

Go To