Book Name:Wasail e Bakhshish

اِنْ شَآءَ اللہ کام  آئے  گی  مجھے  روزِ جزا

قَدر دانی علم کی اُلفت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

اِنْ شَآءَ اللہ وہ  بروزِ حشر  بخشا  جائے  گا

جس کو حاصل ہو گئی نسبت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

 

وہ مجسَّم عاجِزی تھے اور سراپا سادَگی

اِس لئے تو دل میں   ہے ہَیبت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

چارپائی اور تکیہ اور لوٹا جانَماز

تھی سراپا سادہ ہی طِینَت([1])’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

چارپائی پر وہ ہوتے اورہم بھی رُوبرو

یاد آتی ہے ہمیں   صحبت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

آئے دن خدمت میں   آکر ہم مسائل پوچھتے

یاد آتی ہے ہمیں   صحبت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

نُکتہ دانی، مُوشِگا([2])فی اور گُل افشانیاں 

یاد آتی ہے ہمیں   صحبت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

خَندہ پیشانی تبسُّم رَیز میٹھی گفتگو

یاد آتی ہے ہمیں   صحبت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

 

ان کو سینے سے لگایا مصطَفٰے نے خواب([3])میں   

 



[1]     طبیعت ۔

[2]     باریک بینی ۔

[3]     ایک بار ہم چند اسلامی بھائی حضرتِ سیِّدی وقارُ الْمِلَّت  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے ساتھ کار میں   کہیں   جارہے تھے، سلسلۂ گفتگو جاری تھا۔ میں   نے عرض کی: حُضور! آپ نے کبھی خواب میں   سرکار ِ نامدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کادیدار کیا ہو تو ارشاد فرما کر ہماری ذَوق افزائی کیجئے۔ ارشاد فرمایا: ’’ایک بار میں   نے خواب میں   اپنے آپ کو سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ پُر انوار پر حاضِر پایا، اتنے میں   قبرِ انور سے پیارے پیارے آقا میٹھے میٹھے مصطفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہَر تشریف لے آئے اور… اور… مجھے سینے سے لگا لیا۔‘‘سگِ مدینہ عفی عنہ



Total Pages: 406

Go To