Book Name:Wasail e Bakhshish

 

جی اُٹھے مُردے حق کی قدرت سے، حکمِ والائے ربِّ رحمت سے

رب کوجب غوث نے پکارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

درد و آلام جب رُلاتے ہیں  ، غوثِ اعظم مددکوآتے ہیں   

 ہر جگہ غوث کا سہارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

ان کا دشمن خداکاہے مَقہُور، اس کی رحمت سے ہوگیاوہ دُور

بُغض میں   جس نے سر اُبھارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

غوث پر توقدم نبی کاہے، ان کے زیرِقدم ولی سارے

ہر ولی نے یہی پکارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

ہم کو’’گیارہ ‘‘ کاہے عددپیارا، ان کی تاریخِ عُرس ہے گیارہ

یوں   عدد ہم کو پیارا گیارہ ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

خوب صورت ہیں   گنبد اور مِینار، ان پہ رحمت برستی ہے عطارؔ

خوب دربار کا نظارہ ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

 

سُنّیوں   کے دل میں   ہے عزّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘([1])کی

 سُنّیوں   کے دل میں   ہے عزّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

آج بھی ممنون ہے ملّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

آپ عَلّامہ و مفتی اور تھے شیخُ الحدیث

آج بھی ہے قلب میں   عظمت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

صرف عالِم ہی نہیں   تھے آپ عالِم گر بھی تھے

مرحبا تھی خوب عِلمیَّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

بے عَدَد عُلما نے زانوئے تَلَمُّذ([2])تہ کئے

کیا بیاں   ہو شانِ عِلمیَّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی

 



[1]     حضرت وقارالملت مفتی وقارُ الدین قادِری رضوی علیہ ر حمۃُ  اللّٰہِ  القوی کا یومِ عرس ۲۰ ربیع الاوّل ہے لہٰذا بیسویں   کی مناسبت سے اس مَنقَبت میں   ۲۰ اشعار ہیں  ۔۔

[2]     شاگردی ۔



Total Pages: 406

Go To