Book Name:Wasail e Bakhshish

میں   ڈوبا تم بچا لو اب خدارا یامحمدشاہ

بچالو دشمنوں   کے وار سے للّٰہ میں   نے ہے

بڑی امید سے تم کو پکارا یامحمدشاہ

شہا خیرات لینے کو سَلاطینِ زمانہ نے

تِرے دربار میں   دامن پَسارا یامحمدشاہ

سُدھارو میرے دولہا مجھ نکمّے اور بگڑے کو

نہ جانے تم نے کتنوں   کو سُدھارا یامحمدشاہ

خدا کے خوف سے روئے نبی کے عشق میں   روئے

عطا کردو وہ چشمِ تر خدارا یامحمدشاہ

اگرچِہ لاکھ پاپی ہے مگر عطاّؔر کس کا ہے

تمہارا ہے تمہارا ہے تمہارا یامحمدشاہ

 

ہو نائبِ سرورِ دو عالم، امامِ اعظم ابوحنیفہ

ہو نائبِ سرورِ دو عالم، امامِ اعظم ابوحنیفہ

سراجِ اُمّت فقیہِ اَفخم، امامِ اعظم ابو حنیفہ

ہے نام نُعمان ابنِ ثابِت، ابو حنیفہ ہے ان کی کنیت

پکارتا ہے یہ کہہ کے عالم، امامِ اعظم ابوحنیفہ

جو بے مثال آپکا ہے تقوٰی، تو بے مثال آپکا ہے فتوٰی

ہیں   علم و تقوٰی کے آپ سنگم، امامِ اعظم ابوحنیفہ

گنہ کے دلدل میں  پھنس گیاہوں  گلے گلے تک میں  دھنس گیاہوں   

نکالو مجھ کو برائے آدم، امامِ اعظم ابوحنیفہ

حسدکی بیماری بڑھ چلی ہے لڑا ئی آپس میں   ٹھن گئی ہے

شہا مسلمان ہوں   منظَّم، امامِ اعظم ابوحنیفہ

دِیارِ بغداد میں   بُلا کر مزار اپنا دکھا جہاں   پر

ہیں   نور کی بارشیں   چھما چھم ، امامِ اعظم ابوحنیفہ

عطاہو خوفِ خدا خدارا دو الفتِ مصطَفٰے خدارا

کروں   عمل سنّتوں   پہ ہر دم ، امامِ اعظم ابوحنیفہ

ہے دھوم چاروں   طرف سخاکی بھری ہے جھولی ہر ایک گدا کی

عطا ہو مجھ کو بھی طیبہ کا غم، امام اعظمابوحنیفہ

 



Total Pages: 406

Go To