Book Name:Wasail e Bakhshish

ہم تمہارے جو نمک خوار ہیں   غوثِ اعظم

دودھ ماں   کا نہ پیا آپ نے رمضانوں   میں   

آپ بچپن سے سمجھ دار ہیں   غوثِ اعظم

تم نے مُردوں   کو جِلایا ہے ہمارے دل بھی

کر دو زندہ کہ یہ مُردار ہیں   غوثِ اعظم

منہ لگاتا نہیں   دنیا میں   جسے کوئی بھی

بِالیقیں   اُس کے طرفدار ہیں   غوثِ اعظم

کھوٹے سکّے جہاں   چل جا تے ہیں   وہ ہے بغداد

واں   نِکمّوں   کے خریدار ہیں   غوثِ اعظم

مال و دولت کی طلب ہم کو نہیں   ہے مُرشِد

ہم فَقَط تیرے طلبگار ہیں   غوثِ اعظم

راہ بھولا، مجھے یاغوث! سہارا دے دو

تھک گیا پاؤں   بھی اَفگار([1]) ہیں   غوثِ اعظم

 

شاہِ بغداد اِدھر بھی ذرا چشمِ رحمت

ہم بَلاؤں   میں   گرفتار ہیں   غوثِ اعظم

چار جانب سے گناہوں   نے ہمیں   گھیرا ہے

تیرے ہوتے ہوئے کیوں   خوار ہیں   غوثِ اعظم

اب دعا کیلئے ہاتھ اپنے اٹھا دو مرشد !

پَل میں   اِس پار سے اُس پار ہیں   غوثِ اعظم

اب اٹھا بھی دو نِقاب اپنے رُخِ انورسے

کب سے ہم طالِبِ دیدارہیں   غوثِ اعظم

ہو کرم! حُسنِ عمل آہ! نہیں   ہے کوئی

نہ وظائف ہیں   نہ اَذکار ہیں   غوثِ اعظم

حشر کے روز ہماری بھی شَفاعت کرنا

 



[1]     زخمی



Total Pages: 406

Go To