Book Name:Wasail e Bakhshish

استِقامت مذہبِ اسلام پر مل جائے کاش!

ہاتھ اُٹھا کر کر دُعا خواجہ پیا خواجہ پیا

 

خاتِمہ بِالخیر ہو میٹھے مدینے میں   مِرا

ہاتھ اُٹھا کر کر دُعا خواجہ پیا خواجہ پیا

حج کی مل جائے سعادت سبز گنبد دیکھ لوں 

ہاتھ اُٹھا کر کر دُعا خواجہ پیا خواجہ پیا

کاش!قسمت سے مدینے میں  شہادت پاؤں  میں 

ہاتھ اُٹھا کر کر دُعا خواجہ پیا خواجہ پیا

ہو بقیعِ پاک میں   تدفین میری خیر سے

ہاتھ اُٹھا کر کر دُعا خواجہ پیا خواجہ پیا

ایک ذرّہ ہو عطا عطاّرؔ کے ہو جائیگا

خواجہ! گھر بھر کا بھلا خواجہ پیا خواجہ پیا

 

شکریہ آپ کا بغداد بُلایا یا غوث

(اس مَنقبت کے اکثر اشعار بغداد معلّٰی میں   لکھ کر غوث پاک کے دربار میں   پیش کئے گئے )

شکریہ آپ کا بغداد بُلایا یاغوث

مجھ گنہگار کو مِہمان بنایا یاغوث

مرتبہ یوں   تِرا خالِق نے بڑھایا یاغوث

اولیا کا تجھے سلطان بنایا یاغوث

یادِ طیبہ سے بسا دیجئے سینہ میرا

عرض یہ شہرِ ’’کراچی‘‘ سے ہوں   لایا یاغوث

میں   نکمّا تو کسی کام کے قابل ہی نہ تھا

مجھ سے بے کار کو تم نے ہی نبھایا یاغوث

 



Total Pages: 406

Go To