Book Name:Wasail e Bakhshish

اہلِ سنّت کا   چمن   سر سبز   تھا   شاداب    تھا

تازگی تُو اور لایا  اے  امام   احمد رضا([1])

تُونے باطل کو مٹا کر دین کو بخشی جِلا

سنّتوں   کو پھر جِلایا اے امام احمدرضا

اے امامِ اہلِ سنّت نائبِ شاہِ اُمم

کیجئے ہم پر بھی سایہ اے امام احمدرضا

علم کا چشمہ ہوا ہے مَوجزَن تحریر میں   

جب قلم تُو نے اٹھایا اے امام احمدرضا

حشر تک جاری رہے گا فیض مرشِد آپ کا

فیض کا دریا بہایا اے امام احمدرضا

ہے بدرگاہِ خدا عطارِؔ عاجِز کی دعا

تجھ پہ ہو رحمت کا سایہ اے امام احمدرضا

 

خدا کے فَضل سے میں   ہوں   گدا فاروقِ اعظم کا

(۱۹ شوال المکرم ۱۴۳۳ھ۔ بمطا بق2012-09-6)

خدا کے فَضْل سے میں   ہوں   گدا فاروقِ اعظم کا

خدا اُن کا محمد مصطَفٰے فاروقِ اعظم کا

کرم اللہ کا ہر دم نبی کی مجھ پہ رَحمت ہے

مجھے ہے دو جہاں   میں   آسرا فاروقِ اعظم کا

پسِ صدّیقِ اکبر مصطَفٰے کے سب صحابہ میں 

ہے بے شک سب سے اونچا مرتبہ فاروقِ اعظم کا

گلی سے ان کی شیطاں   دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے 

ہے ایسا رُعْب ایسا دبدبہ فاروقِ اعظم کا

صحابہ اور اہلِ بیت کی دل میں   محبت ہے

بَفیضانِ رضا میں   ہوں   گدا فاروقِ اعظم کا

 رہے تیری عطا سے یاخدا! تیری عنایت سے

 



[1]     یہ مصرع ’’مفتش‘‘ نے موزوں   کیا ۔



Total Pages: 406

Go To