Book Name:Wasail e Bakhshish

ہو کرم یا مُرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

شَبَّرو شبِّیر کے بابا مجھے دیدار ہو

 خواب میں   اب آپکا مولیٰ علی مشکلکُشا

اشکبار آنکھیں    عطا  ہوں   دل کی سختی دور ہو

دیجئے خوفِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا

 

ایک ذرّہ اپنی اُلفت کا عنایت کر مجھے

اپنا دیوانہ بنا مولیٰ علی مشکلکُشا

بھیک لینے کیلئے دربار میں   منگتا ترا

لے کے کشکول آ گیا مولیٰ علی مشکلکُشا

کیوں   پھروں    در در بھلا خیرات لینے کیلئے

میں   فقط منگتا تِرا مولیٰ علی مشکلکُشا

نفسِ اَمّارہ ([1])ہو مغلوب اور سدا ناکام ہو

وار ہر شیطان کا مولیٰ علی مشکلکُشا

بے سبب بخشش ہو میری یہ دعا فرمایئے

مصطَفٰے کا واسِطہ مولیٰ علی مشکلکُشا

کیجئے حق سے دعا  ایمان پر ہو خاتمہ

خیر سے عطّارؔ کا مولیٰ علی مشکلکُشا

 

تُو نے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا

تُو نے باطل کو مٹایا اے امام احمدرضا

دین کا ڈنکا بجایا اے امام احمدرضا

زور باطل کا، ضَلالت کا تھا جس دم ہند میں 

تُو مجدِّد بن کے آیا اے امام احمدرضا

 



[1]     برائی پر ابھارنے والا نفس ۔



Total Pages: 406

Go To