Book Name:Wasail e Bakhshish

غیب دان کی آمد مرحبا                 آقائے عطارؔ کی آمد مرحبا

 

’’جب روزِ حَشر تخت پہ بیٹھے گا کبرِیا‘‘ کہنا کیسا؟

سُوال: نَماز کی تلقین سیمُتَعَلِّق ایک نَظم کیسِٹ میں   سُنی جاتی ہے، اُس میں   بے نَمازی کی مَذَمَّت میں   پڑھے جانے والے اِس شِعر کے بارے میں   حکمِ شَرعی کیا ہے؟

جب روزِ حشر تخت پہ بیٹھے گا کِبرِیا                 اُس وقت کیا کہو گے تمہیں   آئے گی حیا

شرم وحیا سے اُس گھڑی سر کو جھکاؤ گے                  جنَّت تو کیا ملے گی جہنَّم میں   جاؤ گے

جواب: ’’جب روزِ حَشر تخت پہ بیٹھے گا کِبرِیا‘‘ یہ الفاظ کُفریہ ہیں  ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں  : جو کہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ انصاف کے لئے بیٹھا یا کھڑا ہوگیا اُس پر حکمِ کفر ہے۔  (فتاوٰی تاتار خانیہ ج۵ ص ۴۶۶) اِس مصرع کو اگر یوں   پڑھ لیں   توشعر دُرُست ہو جائے گا:’’ تم کو بروزِ حشر جو پوچھے گا کبرِیا۔‘‘  (کفریہ کلمات کے بارے میں   سوال جواب ص۲۴۳ مکتبۃ المدینہ)

 

مناقب

یا علیَّ المرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

(یہ کلام ۸ ربیع الآخر۱۴۳۲ھ کو موزوں   کیا)

یا علیَّ المرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا

آپ ہیں   شیرِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا

صاحِبِ لُطف و عطا مولیٰ علی مشکلکُشا

ہیں   شہیدِ با وفا مولیٰ علی مشکلکُشا

’’علم کا میں   شہر ہوں   دروازہ اِس کا ہیں    علی‘‘

ہے یہ قَولِ مصطَفٰے ([1])مولیٰ علی مشکلکُشا

’’جس کسی کا میں    ہوں   مولیٰ  اُس کے مولیٰ ہیں   علی‘‘

ہے یہ قولِ مصطَفٰے ([2])مولیٰ علی مشکلکُشا 

پیکرِ خوفِ خدا  اے عاشقِ خیرُ الورٰی

تم سے راضی کبریامولیٰ علی مشکلکُشا 

 

 



[1]     اَنَا مدِینَۃُ الْعِلْمِ وعَلِیٌّ بَابُہا۔ یعنی میں   علم کا شہر ہوں   اور علی اُس کا دروازہ ہیں  ۔      (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۱۱ص۵۵حدیث۱۱۰۶۱)

[2]     مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔یعنی جس کا میں   مولیٰ ہوں   علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں۔(تِرمِذی ج۵ ص۳۹۸ حدیث۳۷۳۳)



Total Pages: 406

Go To