Book Name:Wasail e Bakhshish

کیوں   ہیں   شاد دیوانے! آج غسل کعبہ ہے

(اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  یہ اشعار ۳۰ ذُ والحجۃِ ا لحرام ۱۴۱۶ھ کو مسجد ا لحرام میں   غسلِ کعبہ کے وقت لکھے گئے )

کیوں   ہیں   شاد دیوانے! آج غسل کعبہ ہے

جھومتے ہیں   مستانے آج غسلِ کعبہ ہے

غسل ہو رہا ہے پَر ہیں   طواف میں   مشغول

گِرد شمع پروانے آج غسلِ کعبہ ہے

’’چل مدینہ‘‘ والوں   پر ساقِیاکرم کردو!

دو چھلکتے پیمانے آج غسلِ کعبہ ہے

اپنے رب کی الفت میں   پیش کیجئے ملکر

آنسوؤں  کے نذرانے آج غسل کعبہ ہے

جانِ رحمت آجاؤ ہوں  گے خیر سے آباد

سب دلوں   کے ویرانے آج غسل کعبہ ہے

جان کو مَسرَّت ہے روح کو بھی ہے فَرحَت

اس خوشی کو دل جانے آج غسلِ کعبہ ہے

لُطف جو ملا مجھ کو کیا بتاؤں   میں   عطارؔ

اس کو میرا دل جانے آج غسلِ کعبہ ہے

 

اللّٰہ کی رَحمت سے پھر عزمِ مدینہ ہے

اللّٰہ کی رَحمت سے پھر عزمِ مدینہ ہے

پھر عزمِ مدینہ ہے تیّار سفینہ ہے

چند اَشک، نَدامت کے ہے زادِ سفر میرا

پَلّے میں   عِبادت کا کوئی نہ خزینہ ہے

گو راہِ مدینہ پر میں   چل تو پڑا ہوں   پَر

افسوس سلیقہ ہے کوئی نہ قرینہ ہے

صدقے میں   محمد کے دے بخش اُسے یارب

مجرِم ہے جو عاصی ہے بدکار و کمینہ ہے

 



Total Pages: 406

Go To