Book Name:Wasail e Bakhshish

آٓتا بڑا سُرور ہے جانا ضَرور ہے

سرکار کا مدینہ یقینا بِلاشُبہ

قلب و نظر کا نورہے جانا ضَرور ہے

منظر حَسین و دلکشا اُن کے دِیار کا

ہاں   دیکھنا ضَرور ہے جانا ضَرور ہے

دیکھوں   گا جاکے گنبدِ خَضرا کی میں   بہار

روضہ وطن سے دور ہے جانا ضَرور ہے

 

مِحراب و مِنبر آپ کے ڈوبے ہیں   نور میں 

جالی بھی نور نور ہے جانا ضَرور ہے

چادر تنی ہے گنبدِ خَضرا پہ نور کی

مینار نور نور ہے جانا ضَرور ہے

پُر نور ہر پہاڑ تو طیبہ کی خاک کا

ہر ذرّہ رشکِ طُور ہے جانا ضَرور ہے

شاہ و گدا فقیر و غنی ہر کسی کا سر

خَم آپ کے حُضورہے جانا ضَرور ہے

بِہتر اِسی برس ہو تو جلدی بُلایئے

یہ التِجا حُضور ہے جانا ضَرور ہے

مرضی تمھاری تم سنو یا مت سنو مگر

اپنی تو رَٹ حُضُور ہے جانا ضرور ہے

عطارؔ قافِلہ تو گیا تم بھی اُٹھ چلو

منزِل اگرچِہ دُور ہے جانا ضَرور ہے

 

سارے نبیوں   کا سرور مدینے میں   ہے

سارے نبیوں   کا سروَر مدینے میں   ہے        سب رسولوں   کا افسر مدینے میں   ہے

 



Total Pages: 406

Go To