Book Name:Wasail e Bakhshish

آہ! اِک تعداد اُن کی سنّتوں   سے دور ہے

’’ہوں  غلامِ مصطَفٰے‘‘ اپنا تو دعویٰ ہے یہی

کاش! آقا بھی یہ فرما دیں   ہمیں   منظور ہے

وہ پِلا مے اہلِ محشر دیکھتے ہی بول اٹھیں 

آگیا عطارؔ دیکھو عشق میں   مخمور ہے

 

میٹھا مدینہ دور ہے جانا ضَرور ہے

میٹھا مدینہ دور ہے جانا ضَرور ہے

جانا ہمیں   ضَرور ہے جانا ضَرور ہے

راہِ مدینہ کے سبھی کانٹے ہیں   پھول  سے

دیوانہ باشُعُور ہے جانا ضَرور ہے

ہوتا ہے سخت اِمتِحاں   الفت کی راہ میں 

آتا مگر سُرور ہے جانا ضَرور ہے

عشقِ رسول دیکھئے حبشی بِلال کا

زخموں   سے چور چور ہے جانا ضَرور ہے

پُر خار راہ پاؤں   میں   چھالے بھی پڑ گئے

اِس میں   بھی اِک سُرور ہے جانا ضَرور ہے

ہمّت جواب دے گئی سرکار المدد!

زائر تھکن سے چُور ہے جانا ضَرور ہے

 

کیوں   تھک گئے پلٹ گئے بھائی! بتایئے؟

یہ آپ کا قُصُور ہے جانا ضَرور ہے

جو راہِ طیبہ کی ہیں   ڈراتی صعوبتیں 

یہ نفس کا فُتُور ہے جانا ضَرور ہے

عُشّاق کو تو ملتی ہے غم میں   بھی راحت اور

 



Total Pages: 406

Go To