Book Name:Wasail e Bakhshish

جشنِ میلادُالنَّبی ہے کیوں   نہ جھومیں   آج ہم

مسکراتی ہیں   بہاریں   سب فَضا پُر نُور ہے

ہو رہی ہیں   چار جانب بارشیں   انوار کی

دشت و کُہسار و چمن ہر شے پہ چھایا نور ہے

 

مل کے  دیوانو! پڑھو سارے دُرُود اب جھوم کر

آج وہ آیا جہاں   میں   جو سراپا نور ہے

آمِنہ تجھ کو مبارَک شاہ کا مِیلاد ہو

تیرا آنگن نور، تیرا گھر کا گھر سب نور ہے

غمزدو! تم کو مبارَک! غم غَلَط ہو جا ئیں   گے

آگیا وہ جس کے صدقے ہر بلا کافور ہے

آج دیوانے مدینے کے سبھی ہیں   شادماں 

میٹھے آقا کی ولادت سے ہر اک مسرور ہے

بخش دے مجھ کو الٰہی بَہرِ میلادُالنبی

نامۂ اعمال عصیاں   سے مرا بھرپور ہے

گنبدِ خَضرا کا اُس کو بھی تو اب دیدار ہو

یاالٰہی! جو مدینے سے ابھی تک دور ہے

 

آپ کی نظرِ کرم سے کام بنتے ہی گئے

ورنہ آقا یہ گدا تو بے کس و مجبور ہے

یاالٰہی! اپنے پیارے کا عطا ہو غم مجھے

خوش نصیبی اُس کی اُن کے غم میں   جو رَنجُور ہے

شان کیا پیارے عمامے کی بیاں   ہو یانبی

تیرے نعلِ پاک کا ہر ذرَّہ رشکِ طور ہے

 صد کروڑ افسوس! فیشن کی نُحوست چھا گئی

 



Total Pages: 406

Go To