Book Name:Wasail e Bakhshish

ہائے! نافرمانیاں   بدکاریاں   بے باکیاں 

آہ! نامے میں   گناہوں   کی بڑی بھر مار ہے

چھپ کے لوگوں   سے گناہوں   کا رہا ہے سلسلہ

تیرے آگے یاخدا ہر جرم کا اظہار ہے

زندگی کی شام ڈھلتی جا رہی ہے ہائے نفس!

گرم روز و شب گناہوں   کاہی بس بازار ہے

یاخدا! رَحمت تری حاوی ہے تیرے قہر پر

فَضل و رَحمت کے سہارے جی رہا بدکار ہے

 

بندۂ بدکار ہوں   بے حد ذلیل و خوار ہوں 

مغفرت فرما الٰہی! تُو بڑا غفّار ہے

موت کے جھٹکوں   پہ جھٹکے آرہے ہیں   المدد

سخت بے چینی کے عالم میں   گِھرا بیمار ہے

اب سَرِ بالیں   خُدارا مسکراتے آیئے

جاں   بَلَب شاہِ مدینہ طالبِ دیدار ہے

غسل دینے کے لئے غَسّال بھی اب آچکا

غسلِ میّت ہو رہا ہے اور کفن تیّار ہے

یانبی! پانی سے سارا جسم میرا دُھل گیا

نامۂ اعمال کو بھی غسل اب درکار ہے

لاد کر کندھوں   پہ اَحباب آہ! قبرستاں   چلے

واسطے تدفین کے گہرا گڑھا تیّار ہے

قبر میں   مجھ کو لِٹا کر اور مِٹّی ڈال کر

چل دیے سا تھی نہ پاس اب کو ئی رِشتے دار ہے

 

خواب میں   بھی ایسا اندھیرا کبھی دیکھا نہ تھا

جیسا اندھیرا ہماری قبر میں   سرکار ہے

 



Total Pages: 406

Go To