Book Name:Wasail e Bakhshish

سن لے شیطاں   تُو دبا سکتا نہیں   عطّارؔ کو

دوجہاں   میں   اِس پہ میٹھے مصطَفٰے کا سایہ ہے

 

مرحبا! مقدَّر پھر آ ج مسکرایا ہے

مرحبا! مقدَّر پھر آج مسکرایا ہے

پھر مجھے مدینے میں   شاہ نے بلایا ہے

خوب مسجدِ نبوی کا حسین ہے منظر

سبزسبز گنبد پر کیسا نور چھایا ہے

میری گندی آنکھوں   کو ان نجس نگاہوں   کو

شکریہ مدینے کا باغ پھر دکھایا ہے

مجھ سا پاپی اور بدکار اور آپ کا دربار!

بِالیقین مجھ پر بھی رَحمتوں   کا سایہ ہے

یانبی! شِفا دیدو ازپئے رضا دے دو

خوب زور، عِصیاں   کے  رَوگ([1])نے دکھایا ہے

جس کو سب نے ٹھکرایا اور دل کو تڑپایا

صَدقے جاؤں   اس کو بھی آپ نے نبھایا ہے

 

نفرتوں   کے دَلدَل میں   دشمنوں   کے چُنگل میں 

 جب کبھی پھنسا ہوں   میں   آپ نے بچایا ہے

عادتیں   گناہوں   کی ہائے! کم نہیں   ہوتیں 

آہ! نفس و شیطاں   نے زور سے دبایا ہے

واری جاؤں   میں   تم پر آبھی جاؤ اب سرور !

کوئی دم کاہوں   مِہماں   دم لبوں   پر آیا ہے

 



[1]     بیماری ۔



Total Pages: 406

Go To