Book Name:Wasail e Bakhshish

چلے گئے ناز اٹھانے والے، تِرا ہی اب آسرا رہا ہے

ہے نَفسی نَفسی چَہار جانِب، نثار جاؤں   کہاں   ہو مولیٰ

چُھپا لو دامن میں   پیارے آقا، یہ شورِ محشر ڈرا رہا ہے

خدائے غفّار بخش دے اب حبیب کی لاج رکھ ہی لے اب

ہمارا غم خوار فکرِ اُمّت، میں   دیکھ آنسو بہارہا ہے

صَباجو پَھیرا ہو کُوئے جاناں  ، تو غمزدہ کا سلام کہنا

یہ عرض کرنا غریب عطارؔ کب مدینے کو آرہا ہے

 

 

 

دل میں نورِ ایمان پانے کا ایک سبب

        حدیثِ پاک میں ہے ، ''جس شخص نے غُصّہ ضَبط کرلیاباوُجُود اِس کے کہ وہ غُصّہ نافِذ کرنے پرقُدرت رکھتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے دل کوسُکون وایمان سے بھردیگا۔'' (الجامع الصغیر للسیوطی ص۵۴۱حدیث ۸۹۹۷)

نور والا آیا ہے ہاں   نور لیکر آیا ہے

(یہ کلامِ نور۱۹ ربیع الاول۱۴۳۲ کو موزوں   کیا)

نور والا آیا ہے ہاں   نور لیکر آیا ہے([1])

سارے عالم میں   یہ دیکھو نور کیسا چھایا ہے

چار جانِب روشنی ہے سب سماں   ہے نور نور

حق نے پیدا آج اپنے پیارے کو فرمایا ہے

آؤ آؤ نور کی خیرات لینے کو چلیں 

نور والا آمِنہ بی بی کے گھر میں   آیا ہے

آگے پیچھے دائیں   بائیں   نور ہے چاروں   طرف

آ گیا ہے نور والا، نور والا آیاہے

ہو رہی ہیں   چار جانب بارشیں   انوار کی

 چھا گئی  نَکہَت  گُلوں   پر ہر شَجَر اِٹھلایا ہے

 

 



[1]     مطلع کسی نامعلوم شاعر کاہے۔



Total Pages: 406

Go To