Book Name:Wasail e Bakhshish

ہائے مقدَّر ان کا در کیوں   چھڑا رہا ہے

افسوس چل دیا ہے اب قافِلہ ہمارا

ہر ایک غم کا مارا آنسو بہا رہا ہے

دل خون رو رہا ہے آنسو چھلک رہے ہیں   

میری نظر سے طیبہ اب چھپتا جا رہا ہے

آہ! اَلفِراق آقا! آہ! الوداع مولیٰ

اب چھوڑ کر مدینہ عطارؔ جا رہا ہے

 

مجھے بُلالو شہِ مدینہ، یہ ہِجر کا غم ستا رہا ہے

مجھے بُلالو شہِ مدینہ، یہ ہِجر کا غم ستا رہا ہے

میں   درپہ آؤں   یِہی تو اَرمان دل میں   طُوفاں   مچا رہا ہے

ہے سہنا دُشوار یہ جُدائی، مِری ہو در تک شہا رَسائی

نہیں   بھروسا ہے زندگی کا ، یہ دل مِرا ڈوبا جارہا ہے

نہیں   تمنائے مال و دولت، نہیں   مجھے خواہشِ حُکومت

مِری نظر میں   حسین و دلکش، وہ سبز گنبد سما رہا ہے

یہی تو حسرت رہی ہے دل میں  ، مجھے اَجَل بھی وہیں   پہ آئے

جہاں   پہ آقا ہے پیارا روضہ ، یہی تو ارماں   سدا رہا ہے

ہے جھولی خالی اے شاہِ عالی کھڑا ہے در پر تِرا سُوالی

غریب منگتا مُرادیں   لینے، کو ہاتھ گندے بڑھا رہا ہے

اے بینواؤ!گداؤ آؤ!، پَسارے دامن صَفیں   بناؤ

خزانہ رَحمت کا بانٹتا وہ، خدا کا محبوب آرہا ہے

 

گدائے در جاں   بَلب ہے آقا، نِقاب اُٹھاؤ دکھا دو جلوہ

ہو ِتشنۂ دیدپر عنایت، جہاں   سے پیاسا ہی جارہا ہے

میں   گورِ تِیرہ میں   آپڑا ہوں  ، فِرِشتے بھی آچکے ہیں   سر پر

 



Total Pages: 406

Go To