Book Name:Wasail e Bakhshish

بِحَمْدِاللّٰہ ایماں   اب توُ میرا لے نہیں   سکتا

ارے چل بھاگ شیطاں   میرا یاوَر آنیوالا ہے

خبر ہے اَبرِ رحمت آج کیوں   دنیا پہ چھائے ہیں 

جہاں   میں   رَحمتوں   کا آج پیکر آنے والا ہے

مبارَک ہو حلیمہ سعدیہ تجھ کو مبارَک ہو

تری گودی میں  کُل عالَم کا سرور آنے والا ہے

اُٹھو تعظیم کی خاطِر کہ گھر میں   آمِنہ کے اب

وِلادت کا وہ لمحہ کیف آور آنے والا ہے

اٹھاؤ سبز پرچم اور چلو سب آمِنہ کے گھر

لٹانے رحمتیں   حق کا پَیَمبرآنے والا ہے

تسلّی تو رکھو سیراب بھی ہوجاؤ گے عطّارؔ

چھلکتا جام لے کر شاہِ کوثر آنے والا ہے

 

ہُوئیں   اُمّیدیں   بارآوَر مدینہ آنے والا ہے

ہُوئیں   اُمّیدیں   بارآوَر مدینہ آنے والا ہے

جُھکالو اب ادب سے سر مدینہ آنے والا ہے

پِلادے ساقِیا ساغَر مدینہ آنے والا ہے

عطا اب کیف و مستی کر مدینہ آنے والا ہے

عطا ہو مجھ کو چشمِ تَر مجھے دیدو دلِ مُضطَر

ذرا جلدی مِرے سرور! مدینہ آنے والا ہے

تڑپنے کا قرینہ دو مجھے دو چاک سینہ دو

پئے شَبِّیر اور شَبَّر مدینہ آنے والا ہے

مبارَک ہو گنہگارو! خطاکارو! سِیَہ کارو

تمہیں   اب عاصِیو! کیا ڈر مدینہ آنے والا ہے

 



Total Pages: 406

Go To