Book Name:Wasail e Bakhshish

برستی ہے خدا کی اُس پہ رَحمت جھوم کر عطارؔ

غمِ محبوب میں   جو کوئی دو آنسو بہاتا ہے

 

مصطَفٰے کا کرم ہوگیا ہے، دل خوشی سے مِرا جھومتا ہے

مصطَفٰے کا کرم ہوگیا ہے، دل خوشی سے مِرا جھومتا ہے

اِذن پھر حاضِری کا ملا ہے، قافِلہ سُوئے طیبہ چلا ہے

کوچ کا وقت اب آچکا ہے، قافِلہ پھر مدینے چلا ہے

منہ دکھاؤں   گا کس طَرح ان کو ، پاس حُسنِ عمل میرے کیا ہے!

میں   مدینے کے قابِل نہیں   ہوں  ، بس نبی نے کرم کردیا ہے

بوجھ عصیاں   کا سر پر دھرا ہے، بس گناہوں   کا ہی سلسلہ ہے

لُوٹنے کو بہارِ مدینہ، چومنے کو غُبارِ مدینہ

اِذن سے تاجدارِ مدینہ، تیرے تیرا گدا چل پڑا ہے

مُلتجَی تجھ سے ہے اِک کمینہ، مانگتا ہے یہ قفلِ مدینہ

دے کے دیدو اِسے استِقامت، پَست ہمّت یہ کم حوصَلہ ہے

سُوئے طیبہ سفر کرنے والو، لب پہ قُفلِ مدینہ لگالو

آنکھ شرم وحیا سے جھکالو، بس اِسی میں   تمھارا بھلا ہے

حاضِری کو ملے چند لمحے بج گئے کوچ کے آہ! ڈنکے

ہے عَجب وَصل وفُرقَت کا سنگم، ہجر کے غم میں   دل رو رہا ہے

 

سَیِّدی مصطَفٰے جانِ رَحمت!کیجئے مجھ پہ چشمِ عنایت

دور ہوجائے دِل کی قَساوَت([1]) تجھ کو صِدّیق کا واسِطہ ہے

یانبی! مجرم آئے ہوئے ہیں  ، بارِ عِصیاں   اُٹھائے ہوئے ہیں 

آس تجھ پر لگائے ہوئے ہیں  ، تیری رَحمت ہی کا آسرا ہے

میں   نے جب بھی عبادت کا سوچا، نَفس نے فوراً اُس دم دَبوچا

نیکیوں   کا نہیں   سلسلہ کچھ، بس گناہوں   میں   ہی دل پھنسا ہے

ہے ہَوَس مال کی، قلب بھٹکا، ہر نَفَس([2])  ہی ہے  بس حُبِّ دنیا

 



[1]     سختی

[2]     سانس



Total Pages: 406

Go To