Book Name:Wasail e Bakhshish

تِرا لطف و کرم بڑھ کر مِری ڈھارس بندھاتا ہے

کلیجا مُنہ کو آتا ہے، مِرا دل تھر تھراتا ہے

کرم! یارب! اندھیرا قبر کا جب یاد آتا ہے

مُسَلسَل موت نزدیک آرہی ہے ، ہائے! بربادی

کرم! مولیٰ! گناہوں   کا مَرَض بڑھتا ہی جاتا ہے

الٰہی! واسِطہ پیارے کا، میری مَغْفِرت فرما

عذابِ نار سے مجھ کو خدایا خوف آتا ہے

تِری سُنَّت پہ چلتا ہوں  ، تو طعنے لوگ دیتے ہیں 

شَہَنشاہِ مدینہ! نفس بھی بے حد ستاتا ہے

 

مُبارَک باد دیتے ہو مجھے، تم بھائیو حج کی

مدینہ چھوڑنے کا غم مجھے تو کھائے جاتا ہے

مَصَائب میں   کبھی حَرفِ شِکایت لَب پہ مت لانا

وہ کر کے مُبتلا بندوں   کو اپنے آزماتا([1]) ہے

نئی اُمّید ملتی ہے، دِلِ مایوس کو پھر سے

مجھے شاہِ مدینہ! جب مدینہ یاد آتا ہے

مُجھے لگتا ہے وہ میٹھا، مُجھے لگتا ہے وہ پیارا

عِمامہ سَر پہ، زُلفیں   اور داڑھی جو سجاتا ہے

خدا ٹھنڈی کرے گا اُس کی آنکھیں   حشر میں   عطارؔ

یہاں   جو سوزِ اُلفت میں   جِگر اپنا جلاتا ہے

 

 



[1]     اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- (پ۲، البقرہ:۱۵۵)ترجَمۂ کنز الایمان :اور ضرور ہم تمہیں   آزمائیں   گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں   اور جانوں   اور پھلوں   کی کمی سے۔



Total Pages: 406

Go To