Book Name:Wasail e Bakhshish

شہِ حَوضِ کوثر آنا مَدنی مدینے والے

مجھے آفَتوں   نے گھیرا، ہے مُصیبتوں   کا ڈَیرا

یانبی مَدد کو آنا مَدنی مدینے والے

تِرے دَر کی حاضِری کو جو تڑپ رہے ہیں   اُن کو

شہا! جلد تو بلانا مَدنی مدینے والے

کوئی اِس طرف بھی پَھیرا ہو غموں   کا دُور اندھیرا

اے سراپا نور! آنا مَدنی مدینے والے

 

کوئی پائے بَخت وَرگر ہے  شَرَف شہی سے بڑھکر

تِرے نَعلِ پاک اُٹھانا مَدنی مدینے والے

مِرا سینہ ہو مدینہ مِرے دِل کا آبگینہ

بھی مدینہ ہی بنانا مَدنی مدینے والے

اے حبیبِ ربِّ باری ہے گُنہ کا بوجھ بھاری

تمہِیں   حشر میں   چُھڑانا مَدنی مدینے والے

مِری عادتیں   ہوں   بہتر بنوں   سُنَّتوں   کا پیکر

مجھے مُتَّقی بنانا مَدنی مدینے والے

شہا!ایسا جذبہ پاؤں   کہ میں   خوب سیکھ جاؤں 

تری سنّتیں   سکھانا مَدنی مدینے والے

تِرے نام پر ہو قرباں   مِری جان، جانِ جاناں 

ہو نصیب سَر کٹانا مَدنی مدینے والے

تِری سنَّتوں   پہ چل کر مری روح جب نکل کر

چلے تو گلے لگانا مَدنی مدینے والے

ہیں   مُبلِّغ آقا جتنے کرو دُور اُن سے فتنے

بُری موت سے بچانا مَدنی مدینے والے

 

مِرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ

اِنہیں   خُلد میں   بسانا مَدنی مدینے والے

مِرے جس قَدَر ہیں   اَحباب انہیں   کردیں   شاہ بیتاب

 



Total Pages: 406

Go To