Book Name:Wasail e Bakhshish

مجھ کو مت بھولنا سلطان مدینے والے

دولتِ عشق سے آقا مِری جھولی بھر دو

بس یِہی ہو مِرا سامان مدینے والے

آپ کے عشق میں   اے کاش کہ روتے  روتے

یہ نکل جائے مری جان مدینے والے

تیرے در پر تو عَدو کو بھی اَماں   ملتی ہے

میں   تری شان کے قربان مدینے والے

 

اپنے  قدموں    سے  خدارا  نہ  جُداکیجےگا

ہو گُنہگار پہ اِحسان مدینے والے

آپ بھوکے رہیں  اور پیٹ پہ پتّھر باندھیں 

نِعمتوں   کے دیں   ہمیں   خوان مدینے والے

حَشر میں   تم مِرے عَیبوں   کو چُھپائے رکھنا

ہُوں   گناہوں   پہ پَشَیمان مدینے والے

میں   مدینے کی گلی کا کوئی کُتّا ہوتا

کاش! ہوتا نہ میں   انسان مدینے والے

مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنالو آقا

بس یِہی ہے مِرا ارمان مدینے والے

اِک جھلک چِہرۂ انور کی دکھا دو اَب تو

وقتِ رُخصت ہے چلی جان مدینے والے

اِس گنہگار کو دامن میں   چھپا لو آقا!

یہ بِچارہ ہے پریشان مدینے والے

کاش! عطارؔ ہو آزاد غمِ دنیا سے

بس تمہارا ہی رہے دِھیان مدینے والے

 

مجھے دَر پہ پھر بُلانا مَدنی مدینے والے

مجھے دَر پہ پھر بُلانا مَدنی مدینے والے

مَئے عِشق بھی پِلانا مَدنی مدینے والے

 



Total Pages: 406

Go To