Book Name:Wasail e Bakhshish

آپ ہی چاہیں   گے تو آقا ہمیں   تڑپائیں   گے

موت اب تو گنبدِ خَضرا کے سائے میں   ملے

کب تک آقا دربدر کی ٹھو کر یں   ہم کھائیں   گے

اے خوشا! تقدیرسے گر ہم کو منظوری ملی

رکھ کے سر دَہلیز پر سرکار کی مرجائیں   گے

 

روتے روتے گر پڑیں   گے ان کے قدموں   میں   وہاں 

روزِ محشر شافِعِ محشر نظر جب آئیں   گے

خلد میں   ہوگا ہمارا داخِلہ اس شان سے

یا رسولَ  اللّٰہ  کا   نعرہ   لگاتے   جائیں     گے

حشر میں   کیسے سنبھالوں   گا میں   اپنے آپ کو

آ مِرے عطار!ؔ آ وہ جب وہاں   فرمائیں   گے

ہائے اب کی بار بھی عطارؔ جو زندہ بچے

پھر مدینے سے کراچی روتے روتے آئیں   گے

توکل کی تعریف

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  توکُّل ترکِ اَسباب کانام نہیں بلکہ اِعْتِمَادعَلَی الْاَسْباب کا ترک ہے۔(فتاوٰی رضویہ، ج۲۴، ص ۳۷۹) یعنی اَسباب کوچھوڑدیناتوکُّل نہیں ہےتوکُّل تویہ ہے کہ صرف اسباب پربھروسانہ کرے۔

 

شکریہ آپ کا سلطان مدینے والے

شکریہ آپ کا سلطان مدینے والے

مجھ سا عاصی بھی ہے مِہمان مدینے والے

مجھ کمینے کو مدینے میں   بُلایا تم نے

ہے یہ اِحسان پہ اِحسان مدینے والے

زائرِ قَبرِ مُنوَّر کی شَفاعت ہوگی

ہے یِہی آپ کا فرمان مدینے والے

میں   بھی تو زائرِ رَوضہ ہوں   رسولِ عَرَبی!

 



Total Pages: 406

Go To