Book Name:Wasail e Bakhshish

جو کوئی جس کا کھاتا ہے اُسی کے گیت گاتا ہے

نبی کے گیت گانا ہم کبھی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

اگرچِہ راستے میں   لاکھ رَوڑے کوئی اٹکائے

رَہِ اُلفت پہ چلنا ہم کبھی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

کمانے مال وزر دَر دَر پھرے اپنی بلا ہم تو

نہ چھوڑیں   گے مدینے کی گلی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

اے میرے بھائیو! ہے تم سے مَدنی اِلتِجا میری

پکارو ہم رضاکی پَیروی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

صَحابہ اور ولیوں   کی مَحَبَّت دل میں   ڈالی ہے

لہٰذا دعوتِ اسلامی بھی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

ہمارا عہد ہے کہ دعوتِ اسلامی کو ہرگز

کبھی بھی ہم نہ چھوڑیں   گے کبھی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

تسلّی رکھ نہ ہو مایوس قبر و حشر میں   عطّاؔر

تجھے تنہا رسولِ ہاشِمی ہرگز نہ چھوڑیں   گے

 

جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں   گے

جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں   گے

تب تلک جشنِ ولادت ہم مناتے جائیں   گے

اُن کے عاشِق نور کی شَمعیں   جلاتے جائیں   گے

جبکہ حاسِد دل جلاتے سٹپٹاتے جائیں   گے

نعتِ محبوبِ خدا سنتے سناتے جائیں   گے

یارسولَ اللّٰہ کا نعرہ لگاتے جائیں   گے

حشر تک جشنِ ولادت ہم مناتے جائیں   گے

مرحبا کی دھوم یارو! ہم مچاتے جائیں   گے

چارجانب ہم دِیے گھی([1])کے جلاتے جائیں   گے

 



[1]     ’’گھی کے دِیے جلانا ‘‘مُحاورہ ہے اس کے معنیٰ ہیں  ۔’’ بہت زیادہ خوشی منانا۔‘‘(ہوسکے تونعت خواں   صاحبان وضاحت فرمادیا کریں  )



Total Pages: 406

Go To