Book Name:Wasail e Bakhshish

تُوخواب میں   حَسنین کے صدقے میں   خدایا

فرما دے مُشَرَّف مجھے دیدارِنبی سے

 

اللّٰہ کو مانے جو محمد کو نہ مانے

لارَیب([1]) وہ ناری ہوا اِنکارِنبی سے

وہ نارِ جہنَّم کا ہے حقدار یقینا

ہے جس کو عداوت کسی بھی یارِنبی سے

اے زائرِ طیبہ! یہ دعا کر مِرے حق میں 

مجھ کو بھی بُلاوا ملے دربارِنبی سے

دنیا کے نظاروں   سے بھَلا کیا ہو سَروکار

عُشَّاق کو بس عشق ہے گلزارِنبی سے

دیوانوں  کے آنسو نہیں   تھمتے دمِ رخصت

جب سُوئے وطن جاتے ہیں   دربارِنبی سے

جلووں   سے خدایا مِرا سینہ ہو مدینہ

آنکھیں   بھی ہوں   ٹھنڈی مِری دیدارِنبی سے

 

سنّت ہے سفر دین کی تبلیغ کی خاطِر

ملتا ہے ہمیں   درس یہ اَسفارِ ([2]) نبی سے

مستانہ مدینے میں   خدا ایسا بنادے

ٹکرا کے میں   دم توڑ دوں   دیوارِنبی سے

صَدقے میں  مِرے غوث کے ہو دُور اندھیرا

تُربت ہو مُنوّر مِری انوارِنبی سے

 



[1]     بیشک

[2]     سفر کی جمع



Total Pages: 406

Go To