Book Name:Wasail e Bakhshish

الٰہی! واسِطہ دیتا ہوں   میں   میٹھے مدینے کا

بچا دنیا کی آفت سے بچا عُقبٰی کی آفت سے

مسلماں   عیدِمِیلادُالنَّبی پر شاد ہوتا ہے

فَقَطابلیس کا چَیلا چِڑے جشنِ ولادت سے

بٹے گی رَحمتوں   کی جس گھڑی خیرات محشر میں 

شہا! محروم مت کرنا مجھے اپنی شَفاعت سے

تمہیں   معلوم کیا بھائی! خدا کا کون ہے مقبول

کسی مومِن کومت دیکھو کبھی بھی تم حَقارت سے

اُجالا ہی اُجالا ہوگا اُس کی قَبر کے اندر

ہو جس کا دل منوَّر الفتِ مہرِ رسالت سے

کرم سے خُلد میں   عطارؔ جس دم جا رہا ہوگا

شیاطیں   دیکھتے ہوں   گے سبھی مُڑمُڑ کے حسرت سے

 

افسوس ! بَہُت دُورہوں   گلزارِ نبی سے

افسوس! بَہُت دُور ہوں   گلزارِ نبی سے

کاش آئے بُلاوا مجھے دربارِنبی سے

الفت ہے مجھے گیسوئے خَمدارِ نبی سے

اَبرو و پَلک آنکھ سے رُخسارِنبی سے

پَیراہَن([1])و چادر سے عصا سے ہے مَحَبَّت

نَعلَیْنِ شَرِیفَین سے دَستارِ([2])نبی سے

بُوصَیری! مبارَک ہو تمہیں   بُردِ یَمانی

سوغات ملی خوب ہے دربارِنبی سے

بیمار! نہ مایوس ہو تُو حُسنِ یقیں   رکھ

دم جا کے کرالے کسی بیمارِ نبی سے

 



[1]     لباس

[2]      عِمامہ

 



Total Pages: 406

Go To