Book Name:Wasail e Bakhshish

فوراً آقا کی حمایت مل گئی

اَنبیا سارے کھڑے ہیں   صَف بہ صَف

میرے آقا کو اِمامت مل گئی

خاکِ طیبہ سے کِیا جس نے علاج

ہر مَرض سے اس کو راحت مل گئی

 

میری قسمت کی یِہی مِعراج ہے

اُن کے کَفْشِ پا سے نسبت مل گئی

دونوں   عالَم میں   ہُوا وہ سُرخرو

جس کو ان کی چشمِ رَحمت مل گئی

میں   امام احمدرضا کا ہوں   غلام

کتنی اعلیٰ مجھ کو نسبت مل گئی

راہِ سنّت میں   ہُوا جو بھی ذلیل

اُس کو اُن کے در سے عزّت مل گئی

تھے گُنہ حد سے سوا عطارؔ کے

ان کے صَدقے پھر بھی جنّت مل گئی

کیوں   نہ رَشک آئے ہمیں   عطارؔ پر

اس کو طیبہ کی اجازت مل گئی

 

مِرا دل پاک ہو سرکار دنیا کی مَحَبَّت سے

مِرا دل پاک ہو سرکار! دنیا کی محبت سے

مجھے ہو جائے نفرت کاش! آقا مال و دولت سے

مدینے سے اگرچِہ دور ہوں   تیری مَشِیَّت([1])سے

تڑپنے کی سعادت دے الٰہی ہجر و فرقت سے

 



[1]     مرضی



Total Pages: 406

Go To