Book Name:Wasail e Bakhshish

 

یاالٰہی! تُو عطا کر دے بقیع

پھر مدینے کی اجازت مل گئی

مل گیا جس کو بقیعِ پاک اُسے

قُربتِ ماہِ رِسالت مل گئی

جھومو جھومو خوب جھومو زائرو!

کیا مِلا در اُن کا جنّت مل گئی

قبرِانور کی زیارت جس نے کی

اُس کو آقا کی شَفاعت مل گئی

عرش پر تو گُنبدِ خَضرا کہاں  !

فرش تجھ کو یہ سعادت مل گئی

رو رہے ہیں   عاشقانِ مصطَفٰے

واہ وا کیا خوب قسمت مل گئی

غم مدینے کا جسے بھی مل گیا

دو جہاں   کی اُس کو نعمت مل گئی

 

تاجِ شاھی اُس کے آگے ہیچ ہے

مصطَفٰے کی جس کو الفت مل گئی

ہم کو فَیضانِ مدینہ مل گیا

کیسی اعلیٰ ہم کو نِعمت مل گئی

میں   مدینے میں   مَروں   اِس حال میں   

سب کہیں   اِس کو شہادت مل گئی

’’المدینہ چل مدینہ‘‘ جھوم کر

جب پکارا دل کو راحت مل گئی

جب   تڑپ   کریارسولَ اللّٰہ   کہا

 



Total Pages: 406

Go To