Book Name:Wasail e Bakhshish

نہ کثیر مال کی آرزو، نہ ہی اِقتِدار کی جُستجو

 میں   تو سائلِ غمِ عشق ہوں  ، مرے آگے ہیچ شہی رہی

جسے مل گیا غمِ مصطَفٰے، اُسے زندگی کا مزہ ملا

کبھی سَیلِ اَشک رَواں   ہوا، کبھی ’’آہ‘‘ دل میں  دبی رہی

یہ ہے زندَگی کوئی زندَگی، نہ نَماز ہے نہ ہی بندَگی

یہی حُبِّ جاہ کی گندَگی، تِری کیوں   نظر میں   بسی رہی

 

جو نبی کی یاد میں   کھو گیا، وہ خدائے پاک کا ہوگیا

دو جہان اُس کے سنور گئے، اُسے آخِرت میں   خوشی رہی

مجھے یانبی! تری دید ہو، تِری دید ہو مِری عید ہو

تجھے جس نے دیکھا ہزا ر بار! اُسے پھر بھی تِشنہ لبی([1])رہی

نہ پسند آئیں   چمن اُسے، نہ ہی کھیت بھائیں  ہرے بھرے

جونگاہ میں   ہے بسی رہی، تو مدینے ہی کی گلی رہی

مجھے اب مدینے میں   لوبُلا، اِسی سال حج بھی کروں   شہا

ہو کرم پئے شہِ کربلا یہی التجا مَدَنی رہی

مِری جاں   ہو جسم سے جب جدا، ہو نظر میں   جلوہ ٔ مصطَفٰے

ہو مدینے میں   مِرا خاتِمہ، یہ دعا خدائے غنی رہی

مَدَنی! گناہ کی عادتیں  ، نہیں   جاتیں  ، آپ ہی کچھ کریں 

میں   نے کوشِشیں   کیں   بَہُت مگر، مِری حالت آہ!بُری رہی

مجھے شوقِ دیں   شب و روز دے، یہی ولولہ یہی سوز دے

تِری سنَّتیں   کروں   عام میں  ، کہ اسی میں   تیری خوشی رہی

تُو سگِ ؔمدینہ کو یاخدا، غمِ روزگار سے لے بچا

 دے غمِ مدینہ پئے رضا یِہی بس دُعائے دِلی رہی

 

مل گئی کیسی سعادت مل گئی

مل گئی کیسی سعادت مل گئی

مجھ کو اب حج کی اجازت مل گئی

پھر مدینے کا سفر  دَرپیش ہے

 



[1]     پیاس

 



Total Pages: 406

Go To