Book Name:Wasail e Bakhshish

کِھل اُٹھا جو کہ دل تھا مُرجھایا،  واہ!کیا بات ہے مدینے کی

جو سُوالی مدینے آیا ہے، جھولیاں   بھر کے اپنی لایاہے

کوئی خالی نہ لَوٹ کر آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

میرے آقا مدینے جب آئے، بچیوں   نے ترانے تھے گائے

چار سُو خوب کیف تھا چھایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

قلبِ عاشق نے کیف پایا ہے، روح کو بھی سُرور آیا ہے

لب پہ نامِ مدینہ جب آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

 

شوقِ طیبہ میں   دل سُلگتا ہے، ہم کو اچھا مدینہ لگتا ہے

یادِ طیبہ ہمارا سرمایہ، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

زائرِروضہ کوشَفاعت کی، یانبی آپ نے بِشارت دی

بامقدّر ہے در پہ جو آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

کب تلک در بد ر پھرے آقا! اپنے کُوچے میں   موت دے آقا!

یہ گدا در پہ عَرض ہے لایا! واہ!کیا بات ہے مدینے کی

خود کو جو عشق میں   رُلاتا ہے، لاجَرَم([1])وہ سُکون پاتا ہے

اُس کے اَشک آخِرت کا سرمایہ،  واہ! کیا بات ہے مدینے کی

ہرطرف بھینی بھینی ہے خوشبو، سوز ہی سوز ہرجگہ ہر سُو

فرش تاعرش نُور ہے چھایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

بس مدینہ مدینہ وِردِ لب، کاش!اکثر رہے مرے یارب

دل کو نامِ مدینہ ہے بھایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

اپنے عطّارؔ کو شہِ عالَم، دے دو اپنی محبت اپنا غم

کوئی دنیا کا دو نہ سرمایہ، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

 

مِرے تم خواب میں   آؤ مِرے گھر روشنی ہوگی

مِرے تم خواب میں   آؤ مِرے گھر روشنی ہوگی

مِری قسمت جگا جاؤ عِنایت یہ بڑی ہوگی

مدینے مجھ کو آنا ہے غمِ فُرقت مِٹانا ہے

 



[1]     بے شک

 



Total Pages: 406

Go To