Book Name:Wasail e Bakhshish

جا کے عطّارؔ پھر مدینے میں 

رحمتیں   لُوٹنا مدینے کی

 

شاہ تم نے مدینہ اپنایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

شاہ تم نے مدینہ اپنایا، واہ! کیا بات ہے مدینے کی

اپنا روضہ اِسی میں   بنوایا، واہ! کیا بات ہے مدینے کی

مجرِموں   کو بھی طیبہ بلوایا، واہ! کیا بات ہے مدینے کی

راستہ مغفِرت کا دکھلایا، واہ! کیا بات ہے مدینے کی

ہر طر ف رحمتوں   کا ہے سایہ، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

خوب رُتبہ عظیم ہے پایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

کوئی دیوانہ جب مدینے میں  ، آیا دِل اُس کا جُھوماسینے میں 

لب پہ بے ساختہ ہے یہ آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

 اللّٰہ  اللّٰہ گنبدِ خَضرا، اور محراب و منبرِ آقا

حُسن میں  چاند اُن سے شرمایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

خوب دنیاکے ہیں  حسیں  باغات اورپھولوں  کے حُسن کی کیا بات

دل کو پر دشتِ طیبہ ہی بھایا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

 

باغِ طیبہ کا حُسن کیا کہنا، جامۂ نُور جیسے ہو پہنا

حُسن سارا یہیں   سِمٹ آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

خوب صورت وہاں   کے سب کُہسار اور ہیں   دھول کے حسیں   اَنبار

وادیوں   پر بھی نور کا سایہ، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

گُل کے جوبن پہ مرنے والے کیا!خارِ طیبہ کا حُسن بھی دیکھا؟

بول اٹھے گا مدینے گر آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

جس نے حُسنِ عقیدت اپنائی، اس نے امراض سے شِفا پائی

جاکے جو خاکِ طیبہ مَل آیا، واہ!کیا بات ہے مدینے کی

جو مصیبت کا آگیا مارا، دُور غم اُس کا ہو گیا سارا

 



Total Pages: 406

Go To