Book Name:Wasail e Bakhshish

افسوس! مگر پھر بھی یہ غفلت نہیں   جاتی

اے رَحمتِ کونین! کمینے پہ کرم ہو

ہائے! نہیں   جا تی بُری خصلت نہیں   جاتی

جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں   تِرے غم میں 

سرکار! مگر دل کی قَساوَت([1])  نہیں   جاتی

 

کیا ہو گیا سرکار! خیالوں   کو ہمارے

اَغیار کے فیشن کی  نُحُوست  نہیں   جاتی

گو لاکھ بُرا ہی سہی مایوس نہیں   ہوں 

صد شکر کہ اُمّیدِ شَفاعت نہیں   جاتی

عادت مجھے معلوم ہے آقا کی کسی کا

دل توڑ کے جاتی نہیں   رَحمت نہیں   جاتی

’’اپنوں  ‘‘ کو تو سرکار! تباہی سے بچا لو

بے چاروں   کے سینوں   سے عداوت نہیں   جاتی

اللّٰہُ غنی! شانِ ولی! راج دلوں   پر

دنیا سے چلے جائیں   حُکومت نہیں   جاتی

کچھ ایسی کشِش تجھ میں   ہے اے شَہرِ مدینہ!

گو حاضِری سو بار ہو حسرت نہیں   جاتی

نَیرنگیِ([2])دنیاکے تماشوں   کی خبر ہے

عطّارؔ تو کیوں   دل سے یہ الفت نہیں   جاتی

 

میں   جو یُوں   مدینے جاتا تو کچھ اور بات ہوتی

میں   جو یُوں   مدینے جاتا تو کچھ اور بات ہوتی

کبھی لَوٹ کر نہ آتا تو کچھ اور بات ہوتی

میں  مدینے تو گیا تھا یہ بڑا شَرَف تھا لیکن

 



[1]     سختی

[2]     فریب۔دھوکا۔ جادوگری



Total Pages: 406

Go To