Book Name:Wasail e Bakhshish

جو مدینے کیلئے رہتے ہیں   آقا بے قَرار

وہ بھی ہو جائیں   ترے روضے پہ حاضِر یانبی!

چاک سینہ چاک دِل سَوزِ جِگر اَور چَشمِ تَر

دیجئے مجھ کو طفیلِ عبدِ قادِر یانبی!

بِالْیَقِیں   قُرآن عَظمَت پر تمہاری ہے گواہ

شاہِد و قاسم ہو تُم طَیِّب ہو طَاہِر یانبی!

 

تُم کو عِلْمِ غَیب مولا نے عطا فرما دیا

کر دیا ہر جَا پہ حاضِر اور نَاظِر یانبی!

اِستِقَامت دِین پر مجھ کو عطا فرمایئے

یا  رسول  اللّٰہ   برائے  آلِ   یاسِر([1])    یانبی!

آپ سب نَبیوں   میں   اَفضل اور میں   بَدکار آہ!

عَاصِیوں   میں   ہوں   یَگانہ اَور نادِر یانبی!

عَاصِی و بَدکار کے اپنے خدائے پاک سے

بَخشوا دو سب صَغَائر اور کبائِر یانبی!

بال بھی بِیکا نہ میرا تو کوئی کر پائے گا

کیوں   کہ میرے تُم ہو حامِی اور نَاصِر یانبی!

تِشنَگانِ دِید کو ہو دِید کا شَربَت عطا

ازطُفَیلِ غَوثِ اعظم عَبدِ قادِر یانبی!

آہ! میرا کیا بنے گا گَر نہ حج پر جاسکا

ہو کرم عطارؔ پر ہوجائے حاضر یانبی!

 

ہو مبارَک اہلِ ایماں   عیدِمیلادُ النِّبی

ہو مبارَک اہلِ ایماں   عیدِمیلادُالنَّبی

ہو گئی قسمت دَرَخشاں   عیدِمیلادُالنَّبی

خوب خوش ہیں   حُور و غِلْماں   عیدِمیلادُالنَّبی

 



[1]     آلِ یاسرعَلَیہِمُ الرِّضوان پر خوب ظُلم و سِتم کے پہاڑ توڑے گئے تھے پھر بھی یہ دِین پر ثابت قدم    رہے تھے۔ کاش! ان کے طفیل ہمیں   بھی اِستِقامت فِی الدِّین نصیب ہو جائے۔



Total Pages: 406

Go To