Book Name:Wasail e Bakhshish

اللّٰہ     دِکھا  دے   مجھے   انوارِ  مدینہ

خاک آنکھوں   میں  محبوب کے کوچے کی سجا ([1])کر

دینے کو سلامی چلوں   دربارِ مدینہ

 

کیا کیف و سُرور آتا تھاافسوس وہ میرے

تھے خواب وہ گویا سبھی اَسفارِ مدینہ([2])

تعظیم کو اُٹھ جاتے سبھی قافلے والے

جوں   ہی نظر آتے انہیں   آثارِ ([3])مدینہ

پڑھ پڑھ کے سنایا ہے اِنہیں   کلمۂ طیِّب([4])

ایماں   پہ ہیں   شاھِد مِرے اَشجارِ مدینہ

شادابیِ جنّت کا میں   مُنکِر نہیں   لیکِن

ہے حُسْن میں   بے مِثْل چَمن زارِ مدینہ

 

افسوس! مِرے نفس کو پھولوں   کی طلب ہے

آ دِل میں   سما جا مِرے اے خارِ مدینہ

کثرت سے دُرُود اُن پہ پڑھورب نے جو چاہا

سینے میں   اُتر آئیں   گے انوارِ مدینہ

سرکار بُلاتے ہیں   مدینے میں   کرم سے

اُس کو کہ جو ہو دل سے طلبگارِ مدینہ

 



[1]     الحمد للّٰہ بار ہا آنکھوں   میں  خاکِ مدینہ لگا کر سلام کیلئے حاضر ہونے کی سعادت پائی ہے،اِ س کیلئے سُرمے کی سَلائی اکثر جیب میں   رہتی تھی یہ سعادت پھر پانے کی آرزو ہے۔

[2]     متعدد بار پے در پے سفرِ مدینہ نصیب ہوامگر تادمِ تحریر8سال سے محرومی ہے۔اِس شعر میں   اُسی کی طرف اشارہ ہے. ۔

[3]     مکۂ مکرمہ  زادہا اللّٰہ شرفاوتعظیماسے مدینۂ منورہ زادہا اللّٰہ شرفا وتعظیماجاتے ہوئے جب دور سے مدینۂ پاک کے آثار نظر آتے تو بس کے اندر کھڑے ہو جاتے اور رو رو کر دُرُودوسلام عرض کرتے،اس پُر سوز منظر کا شعر میں   اشارہ کیا گیا ہے۔  

[4]     الحمد للّٰہ بار ہا مدینۂ منورہ کے درختوں   کو کلمہ شریف سناکر اپنے ایمان پر گواہ کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔سگ مدینہعُفِیَ عَنہُ ۔



Total Pages: 406

Go To