Book Name:Wasail e Bakhshish

اُسے بھی اپنے سینے سے لگانا یارسولَ اللّٰہ

نہیں   عطارؔ قابِل امتِحاں   کے سرورِ عالم

بَہَر صورت تمہِیں   اِس کو نبھانا یارسولَ اللّٰہ

 

حسد کی تعریف

کسی کی نعمت چھن جانےکی آرزوکرنا۔(فتاوٰی رضویہ، ۲۴/ ۴۲۸)مثلاً:کسی شخص کی شہرت یا عزت ہے اب یہ آرزوکرناکہ اس کی عزت یاشہرت ختم ہوجائے۔البتہ دوسرےکی نعمت کازوال(یعنی ضائع ہوجانا)نہ چاہنابلکہ ویسی ہی نعمت کی اپنےلئےتمنّاکرنایہ غِبطہ(یعنی رشک)کہلاتاہےاوریہ شرعاًجائزہے۔ (طریقہ محمدیہ، ۱/ ۶۱۰)

 

اچا نک دشمنوں   نے کی چڑھا ئی یارسولَ اللّٰہ

(تبلیغِ قراٰن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘کی بڑھتی ہوئی شان و شوکت سے بَوکھلا کر بعض دشمنوں   نے ۲۵ رجبُ الْمرجَّب ۱۴۱۶ھ شب ِدوشنبہ تقریباً ۱۲ بجے مرکزالاولیا(لاہور) میں   فقیرِاہلِ سنّت کی جان لینے کی نا کام کوشش کی جس کے نتیجے میں   دو جواں   سال مُبلّغِین الحاج اُحُد رضا عطاری قادِری رضوی اور محمد سجّاد عطاری قادِری رضوی عطاری شہید ہو گئے، اس پر سگِ مدینہ عُفِیَ عَنہُ نے بارگاہِ رسالت میں   اِستِغاثہ پیش کیا )

اچانک دشمنوں   نے کی چڑھائی یارسولَ اللّٰہ

ہوئے دو جاں   بحق اسلامی بھائی یارسولَ اللّٰہ

مِرا دشمن تو مجھ کو ختم کرنے آہی پہنچا تھا

میں  قُرباں  تم نے میری جاں  بچائی یارسولَ اللّٰہ

شہیدِ دعوتِ اسلامی سجّاد و اُحُد آقا

رہیں   جنّت میں   یکجا دونوں   بھائی یارسولَ اللّٰہ

عَدو جَھک مارتا ہے خاک اُڑاتا ہے ترے قرباں 

مجھے اب تک نہ کوئی آنچ آئی یارسولَ اللّٰہ

 

نہیں   سرکار! ذاتی دشمنی میری کسی سے بھی

مِری ہے نفس و شیطاں   سے لڑائی یارسولَ اللّٰہ

شہا! دشمن ہوا ہائے! ہمارے خون کا پیاسا

دُہائی یارسولَ اللّٰہ! دُہائییارسولَ اللّٰہ

حفاظت دشمنوں   سے آپ ہی فرمائیے آقا

کہ مجھ کمزور پر کی ہے چڑھائی یارسولَ اللّٰہ

 



Total Pages: 406

Go To