Book Name:Wasail e Bakhshish

عرشِ عُلٰی سے اعلٰی میٹھے نبی  کا روضہ

عرشِ عُلیٰ سے اعلیٰ میٹھے نبی کا روضہ([1])

ہے ہر مکاں   سے بالا میٹھے نبی کا روضہ

کیسا ہے پیارا پیارا یہ سبز سبز گنبد

کتنا ہے میٹھا میٹھا میٹھے نبی کا روضہ

فِردوس کی بُلندی بھی چھُو سکے نہ اس کو

خُلدِ بَریں   سے اُونچا میٹھے نبی کا روضہ

مکّے سے اِس لئے بھی افضل ہوا مدینہ

حصّے میں   اِس کے آیا میٹھے نبی کا روضہ

کعبے کی عظمتوں   کا مُنکِر نہیں   ہوں   لیکن

کعبے کا بھی ہے کعبہ میٹھے نبی کا روضہ

 

آنسُو چَھلَک پڑے اور بے تاب ہوگیا دِل

جس وقت میں   نے دیکھا میٹھے نبی کا روضہ

ہوگی شَفَاعت اُس کی جس نے مدینے آکر

خواہ اِک نَظر بھی دیکھا میٹھے نبی کا روضہ

بَادَل گھرے ہوئے ہیں  بارِش برس رہی ہے([2])

لگتا ہے کیا سُہانا میٹھے نبی کا روضہ ([3])

ہِجر و فِراق میں   جو یارب! تڑپ رہے ہیں 

اُن کو دِکھادے مولیٰ میٹھے نبی کا روضہ

ہَژدہ ہزار عالَم کا حُسن اِس پہ قرباں 

دونوں   جہاں   کا دُولہا میٹھے نبی کا روضہ

 



[1]     روضہ کے لفظی معنی ہیں   باغ٭اس شعر میں   روضہ سے مُراد وہ حصۂ زمین ہے جس پر رَحمتِ عالمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جسمِ معظَّم تشریف فرما ہے ۔ اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فُقَہائے کرام رَحمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام فرماتے ہیں  : محبوبِ داوَر صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے جسمِ انور سے زمین کا جو حصہ لگا ہوا ہے، وہ کعبہ شریف سے بلکہ عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ (دُرِّمُختَار معہ رَدُّالمحتار ج۴ ص ۶۲) 

[2]     مدینہ منوَّرہ کی گلی میں   برستی برسات میں   گنبدِ خَضرا کے جلووں   میں   ایک طرف کھڑے ہوکر یہ شِعر قلمبند کیا تھا۔

[3]     عام بول چال میں   سبز گنبد کوبھی رَوضہ کہتے ہیں   اور یہاں   یہی مُراد ہے۔



Total Pages: 406

Go To