Book Name:Wasail e Bakhshish

حضرتِ سیِّدُنا عَمرِ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ اپنا اِحتِساب فرمايا کرتے، اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ مار کر فرماتے: بتا، آج تو نے ''کیا کيا'' کِيا ہے؟ (اِحياءُ العُلوم ج۵ ص۱۴۱)

 

شہا جتنے بھی دیوانے ہیں   تیرے

کسی کا جذبۂ الفت نہ کم ہو

جو تم چاہو یقینا دور مجھ سے

شہا  عقبیٰ کا ہر رنج و الم([1]) ہو

کرے آنکھوں  سے سَیلِ اشک جاری

عطا ہجرِ مدینہ کا وہ غم ہو

سدا کرتا رہوں   سنَّت کی خدمت

مرا جذبہ کسی صورت نہ کم ہو

کریں   اسلامی بہنیں   شرعی پردہ

عطا ان کو حیا شاہِ اُمم ہو

دکھا دو سبز گنبد کی بہاریں 

شہا عطارؔ پر اب تو کرم ہو

 

اے کاش! تصوُّر میں   مدینے کی گلی ہو

اے کاش! تصوُّر میں   مدینے کی گلی ہو

اور یادِ محمد بھی مِرے دل میں   بسی ہو

دو سوزِ بِلال آقا ملے درد رضا سا

سرکار عطا عشقِ اُوَیسِ قرنی ہو

اے کاش! میں   بن جاؤں   مدینے کا مسافِر

پھر روتی ہوئی طیبہ کو بارات چلی ہو

پھر رَحمتِ باری سے چلوں   سُوئے مدینہ

اے کاش! مقدَّر سے مُیَسَّر وہ گھڑی ہو

 



[1]     غم  



Total Pages: 406

Go To