Book Name:Wasail e Bakhshish

کر ہم کو خوش خصالی([1])کر یہ دعا رہے ہیں 

بیماریِ گُنہ سے ہم کو شِفا دے یارب

بن جائیں   نیک ہم سب کر اِلتجا رہے ہیں 

دولت کی حرص دل سے اللّٰہ دور کر دے

 عشقِ رسول دے دے کر یہ دعا رہے ہیں 

تَکثِیرِ([2]) مال و زَر  کی   ہرگز   نہیں     تمنّا

ہم مانگ آپ سے بس غم آپ کا رہے ہیں   

رخصت کی اب گھڑی ہے سر پر اَجَل کھڑی ہے

آجاؤ اب خدارا ہم جاں   سے جا رہے ہیں

 

اب لحد میں   عزیزو! جلدی اتار بھی دو

آہا! وہ مسکراتے تشریف لا رہے ہیں 

فریاد جانِ عالَم! کوئی نہیں   ہے ہمدم

سُوئے سَقَر([3])فِرشتے اب لے کے جا رہے ہیں 

قربان روزِمحشر دامن کا پردہ ڈھک کر

عیبوں   کو میرے سرور خود ہی چُھپا رہے ہیں   

محشر میں   بندہ پرور لطف و کرم کے پیکر

بھر بھر کے جامِ کوثر ہم کو پلا رہے ہیں 

صدقے میں   مرتضیٰ کے سوزِ بِلال دے دو

یہ عرض لے کر آقا عطارؔ آ رہے ہیں 

ان کے کرم کے صدقے! فضل و کرم پہ قرباں 

 



[1]     یعنی اچھی عادتوں   والا    ۔

[2]     زیادتی ۔کثرت   ۔

[3]     جہنم کے ایک طبقے کا نام



Total Pages: 406

Go To