Book Name:Wasail e Bakhshish

ہم جس کا کھارہے ہیں  گیت اُس کے گا رہے ہیں 

مَسکَن بنے مدینہ مدفن بنے مدینہ

احمدرضا کا تم کو دے واسِطہ رہے ہیں   

آقا! بلاؤ اُن کو بے چین مُضطَرِب جو

دل کو جلا رہے ہیں   آنسو بہا رہے ہیں

 

جن کا نہ بھاؤ کوئی دنیا میں   پوچھتا ہو

سینے سے ان کو آقا اپنے لگا رہے ہیں 

اُمّت کے حال سے ہیں   آگاہ ہر گھڑی آپ

خوابوں   میں   آرہے ہیں   بگڑی بنا رہے ہیں 

دنیا کے غم نے مارا لِلّٰہ دو سہارا

سرکار ٹھوکریں   ہم در در کی کھا رہے ہیں 

اب گِھر چکی ہے آقا طوفاں   میں   اپنی نَیّا

اے ناخدا سہارا مانگ آپ کا رہے ہیں 

آقا حُضورِ انور! نظرِ کرم ہو ہم پر

ابرِسیاہ دل پر عِصیاں   کے چھا رہے ہیں   

چشمِ کرم ہو جاناں   سُوئے گناہگاراں 

سرکار! نفس و شیطاں   ہر دم دبا رہے ہیں

 

اُن سب مُبلِّغوں   کے خوابوں   میں   اب کرم ہو

آقا جو سنّتوں   کی خدمت بجا رہے ہیں   

پروردگارِ عالی دے جذبۂ غزالی

 



Total Pages: 406

Go To